سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین پر سوالات اٹھ گئے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین پر سوالات اٹھ گئے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین پر سوالات اٹھا دیے گئے۔

سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، اس دوران سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے فارمولے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں ایک ہفتے کے دوران قیمتیں کم بھی ہوئیں، تاہم پاکستان میں قیمتوں میں کمی نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قیمتوں کے تعین میں مقامی تیل اور گیس کی پیداوار کو شامل نہیں کیا جا رہا، روزانہ قیمتوں کے فارمولے میں مقامی پیداوار کی ان پٹ کہیں نظر نہیں آتی۔

کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن سے موجودہ قیمتوں کے تعین کا تفصیلی تجزیہ طلب کرلیا۔

سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو دیے جانے والے ریلیف کی تفصیلات اور اس اسکیم کی تشہیر پر ہونے والے اخراجات بھی طلب کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ریلیف سے زیادہ رقم اشتہارات پر خرچ کی جا رہی ہے تو ریلیف دینے کا مقصد متاثر ہوگا۔ 

پیٹرولیم ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 30 فیصد پیٹرول اور 70 فیصد ڈیزل مقامی طور پر تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں خام تیل کی یومیہ مقامی پیداوار تقریباً 64 ہزار بیرل ہے جبکہ سالانہ تقریباً 9 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق ساڑھے 5 ملین ٹن ڈیزل اور 2 ملین ٹن پیٹرول درآمد کیا جاتا تھا، تاہم جون کے بعد سے پاکستان نے بیرون ملک سے ڈیزل درآمد نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ عالمی سطح پر ڈیزل کی دستیابی میں کمی کے باعث پاکستان نے خام تیل کی درآمد بڑھائی۔

سینیٹر ہدایت اللّٰہ نے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ اضافے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل پر بسیں اور گاڑیاں چلتی ہیں اور سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا ہے، اس لیے ڈیزل کا روزانہ ریٹ بڑھانا مناسب نہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں