جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اگلے مہینے تک مؤخر کرنے کا اعلان

جماعتِ اسلامی نے لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہم سے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، وزیرِ اعظم نے ہمیں ملاقات کی دعوت دی، ان سے ملاقات ضرور کریں گے، وہ جب پاکستان آئیں گے تو ان سے بات کریں گے، حکومت سے تحریری یقین دہانی لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وطن واپس آ کر جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر عوام کو ریلیف دوں گا، آج طویل مشاورت کی، مشاورت کے بعد طے کیا ہے کہ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے، ہم لانگ مارچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ صورتِ حال خراب ہے تو اس کی ذمے دار حکومت ہے، دھرنے جاری رہیں گے، وزیرِ اعظم وطن آئیں تو ہم ان سے بات کریں گے، اگر وہ ریلیف دیں گے تو ٹھیک ورنہ پھر ہم اکتوبر میں لانگ مارچ کریں گے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ عوام مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں، ہماری شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے حکومت پر دباؤ پڑا، حکومت کو پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز دیں، حکومت نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں لیوی کم نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے مارچ سے پہلے وزراء سے ملاقاتوں کے 3 سے 4 دور ہوئے، حکومت کی جانب سے دیا گیا ریلیف ناکافی ہے، آپ پیٹرول پر لیوی ختم نہیں کر سکتے تو ہم اپنا احتجاج کیسے ختم کر سکتے ہیں؟ ہمارا ذاتی ایجنڈا نہیں، پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ کراچی میں لوگ بچوں سمیت خودکشی کر رہے ہیں، لوگوں سے 6 گنا لیوی وصول کی جا رہی ہے، حکومت کہتی ہے کہ ہم پر آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، وزیرِ اعظم سے مذاکرات کریں گے، ہم عوام کے ریلیف کی بات کر رہے ہیں، کچھ بھی ہو ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے، دھرنے جاری رہیں گے، جماعت اسلامی جب کوئی فیصلہ کرتی ہے تو پورا کرتی ہے، ہمارا ملتان میں پڑاؤ رہے گا۔




