عدالتی احکامات، پابندی کے باوجود زیرِ تعمیر مہران ہائی وے پر ہیوی ٹریفک رواں دواں

عدالتی احکامات اور پابندی کے باوجود زیرِ تعمیر مہران ہائی وے پر ہیوی ٹریفک رواں دواں، سڑک پر جگہ جگہ تعمیراتی سامان، کچے راستے اور مال بردار گاڑیاں حادثات کا سبب بننے لگیں۔ 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق رواں ماہ کے دوران مہران ہائی وے پر مختلف حادثات میں 40 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 

ڈی آئی جی حیدرآباد کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے ہیوی ٹریفک سے متعلق احکامات پر عمل درآمد کی کوشش کر رہےہیں۔

مہران ہائی وے نیو سعید آباد سے شروع ہو کر رانی پور پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس شاہراہ پر نواب شاہ، دوڑ، باندھی، نوشہروفیروز، خیرپور اور رانی پور سمیت متعدد چھوٹے بڑے شہر واقع ہیں، جہاں مقامی ٹریفک بھی اسی سڑک پر سفر کرتی ہے۔

ان دنوں اس اہم شاہراہ کو وسیع کرنے اور تعمیرات کا کام جاری ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے پر تعمیراتی کام اور ٹریفک جام کے باعث وہ مہران ہائی وے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہاں سے گزرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں۔

ڈی آئی جی طارق دھاریجو نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کی کوشش کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ مہران ہائی وے سے ہیوی ٹریفک نہ گزرے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس شاہراہ پر واقع شہروں کی ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کرنے کا سوال بھی اہم ہے۔

زیرِ تعمیر شاہراہ پر ہیوی ٹریفک کی آمدورفت، ناکافی حفاظتی انتظامات اور بڑھتے ہوئے حادثات کے پیشِ نظر قیمتی جانوں اورمالی نقصان ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں