خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، مولانا فضل الرحمان

خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، حکومتی بینچ سےکہا جاتا ہے کہ انہوں نے آئینی طریقہ کار اختیار کیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی پر صوبائی حکومت ہٹانے کا موقف اختیار کیا گیا، بلوچستان میں اس سے زیادہ حالات خراب ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے، پھر بلوچستان میں بھی خراب حالات پر گورنر راج لگایاجانا چاہیے، ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہوگئے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ کے پی میں معدنیات کیلئے دہشت گردی کے الزام کے پیچھے چھپ رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگ گئی، اب وہاں معدنیات کی بات ہم نے نہیں گورنر نے کی ہے، ریاست کو بھی وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو ماں کا ہوتا ہے۔

دوسری جانب  سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور آل پارٹیز کانفرنس سے متعلق مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے بعد جیونیوز سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اے پی سی نہیں بلکہ قومی سطح کی مشاورت ہونی چاہیے، جس میں حکومت، اپوزیشن سمیت تمام صوبوں کے اسٹیک ہولڈر شامل ہوں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں