جیل میں تو آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے، جسٹس عقیل عباسی

جیل میں تو آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے، جسٹس عقیل عباسی
سپریم کورٹ : فائل فوٹو
سپریم کورٹ : فائل فوٹو 

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عقیل عباسی نے قتل کے مجرم کی میڈیکل گراؤنڈز پر ضمانت کی درخواست کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں تو آنکھ تک کا علاج موجود نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل عارضہ قلب میں مبتلا ہے، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی رپورٹ میں ملزم کو آپریشن کا کہا گیا، جیل میں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ جیل میں تو آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔

جسٹس ملک شہزاد نے سوال کیا کہ ملزم اس وقت کون سی جیل میں ہے؟ 

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ملزم مردان جیل میں ہے، جواب میں جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ مردان میں ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مردان میں کارڈیالوجی اسپتال نہیں، پشاور کارڈیالوجی میں بنا دیا جائے۔

عدالت نے پشاور کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیتے ہوئے 9 مارچ تک رپورٹ طلب کرلی۔



50% LikesVS
50% Dislikes
July 2026
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں