بانی سے ملاقات روکیں گے تو نفرتیں، تناؤ بڑھے گا، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین سے ملاقات روکیں گے تو نفرتیں اور تناؤ بڑھے گا۔
راولپنڈی اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 37 ہفتے گزر گئے بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات کی نہیں ہوئی، ملاقات روکیں گے تو نفرتیں اور تناؤ بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ فیملی کی ملاقات کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی، حکومت میں جن سے بات چیت کرتے ہیں ان سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ کہا گیا تحریری طور پر ملاقات کا خط لکھیں اور باہر آکر سیاسی بات نہیں کریں گی، فیملی کی طرف سے مطالبہ تھا کہ سب کی ملاقات ہونی چاہیے، اس پر پیشرفت نہ ہوسکی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے سارے فیصلے ہوں، بانی پی ٹی آئی کو 5 اور بشری بی بی کو 3 مرتبہ اسپتال لے کر گئے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ نہ لینے کے معاملے پر سیاسی کمیٹی بیٹھی تھی، آزاد کشمیر الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ وہاں کے حالات دیکھ کر کیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس جو پیغام آیا اس میں بانی پی ٹی آئی یا بشریٰ کی جانب سے کوئی شکایت نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے ایک آفر ضروری آئی تھی، علیمہ باجی نے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتیں دیکھیں گے تو ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے، پہلے بھی کہا تھا بانی پی ٹی آئی کے خلاف سزا کے فیصلے آئے تو تناؤ مزید بڑھے گا، ملک میں تقسیم بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مجرم کو سزا نہیں دے رہے سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کررہے ہو، ہماری پارٹی میں کوئی بغاوت اور فارورڈ بلاک نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں سب متحد ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملے پر دوٹوک کہہ چکے، ریاست مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کرتے، ہرزہ سرائی کو سپورٹ نہیں کریں گے، عوامی مطالبات کو سپورٹ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اچکزئی، مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی والے جائیں گے توکیا وہ لوگوں کو انتشار پر اکسائیں گے، ہم کسی صورت نہیں چاہ رہے کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچے۔




