حکومت پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے، علی پرویز ملک

حکومت پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے، علی پرویز ملک
حکومت پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے، علی پرویز ملک

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر نے شرکت کی اور کہا کہ حکومت پورے سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرکے قیمتوں کے معاملے سے نکلنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تیار پیٹرولیم مصنوعات چاہئیں، جو عالمی مارکیٹ سے نہیں ملتیں، ہماری پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کم ہیں، خام پٹرولیم مصنوعات کو ریفائن کرنے پر خرچ آتا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو مانیٹر کیا جاتا ہے، ابھی تو سپلائی کی صورتحال بہتر ہے، ڈیزل 33 فیصد اور پیٹرول 70 فیصد درآمد ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ ڈی ریگولیشن کی طرف جاتے ہیں، جنگ شروع ہوتے وقت خام تیل کروڈ 71 ڈالر اور ڈیزل 78 ڈالر پر تھا، پیٹرول کی قیمت 180 سے 190 ڈالر فی بیرل تک گئی، ڈیزل دستیاب ہی نہیں تھا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ پیٹرول پر لیوی 80 روپے سے زیادہ لگائی گئی، جو آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ سے تھی، اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے سے بھی کم پر آگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت ابھی بھی زیادہ ہے، وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہوئی ہے جس کے 3 اجلاس ہو چکے ہیں، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پالیسی بھی جمع کروا دی ہے۔

علی پرویز ملک نے یہ بھی کہا کہ سپلائی چین کو ڈیجیٹلائز کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں، اسٹریٹیجک ذخائر پر بھی ایک عالمی اسٹڈی کال کی تھی 2 فرمز کام کر رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریفائنری پالیسی پر 15 جولائی کو ای سی سی سے منظوری لینے کا منصوبہ ہے، انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے مکمل بریفنگ دینے کو تیار ہیں، فرٹیلائزر اور بجلی کے سارے کارخانے چل رہے ہیں۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ 20 سال بعد آف شور ایکسپلوریشن شروع ہو رہی ہے، سال کے آخر میں سرکلر ڈیٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، آئی ایم ایف سے سرکلر ڈیٹ پر بات چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران اسٹریٹجک اسٹوریج اور وسائل نہ ہونے کے باوجود کام چل گیا، جب تک پیسے نہیں دیں گے کمپنیاں کیسے تیل و گیس تلاش کریں گی۔



50% LikesVS
50% Dislikes
July 2026
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں