جیو کی نادانستہ نشر مواد پر معذرت اور فوری تادیبی کارروائی خوش آئند ہے: مولانا کوکب نورانی

معروف اسلامی اسکالر مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ ’جیو ٹی وی‘ سے نادانستہ، غیر ارادی طور پر ایسا بصری مواد نشر ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، اس پر ادارے نے ازخود نوٹس لیا اور فوری طور پر مواد کو ہٹایا اور معذرت کی۔
اپنے ویڈیو بیان میں مولانا کوکب نورانی نے کہا کہ ایک سچا مسلمان اسلامی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کا قول و فعل شریعت و سنت کے مطابق ہو، اللّٰہ تعالیٰ کے آخری اور سب سے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق میں اور کائنات میں سب سے افضل، سب سے اعلیٰ، سب سے بہتر اور برتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے پیارے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات، ان کی ذات سے وابستہ ہر چیز، ان کی ازواج، ان کے اصحاب، ان کی اولاد، ان کے اہلِ بیت ہم سب کے لیے بہت محترم ہیں، ان کی محبت ہمارے ایمان کی جان اور ان کی تعظیم ہمارے ایمان کی پہچان ہے۔
مولانا کوکب نورانی کا کہنا ہے کہ جیو نے نادانستہ طور پر نشر ہونے والے مواد پر غیر مشروط توبہ کی اور واضح کیا کسی سچے مسلمان کی طرح وہ بھی کسی طرح کسی ایسی بات میں ملوث یا شامل نہیں ہونا چاہتے جو کسی طرح ناروا ہو، ناجائز ہو یا ناگوار ہو اور لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے یا دینی تعلیمات سے ٹکرائے۔
نامور اسلامی اسکالر نے کہا کہ جیو ٹی وی نے فوری طور پر تادیبی کارروائی کی اور توبہ کی جو انتہائی خوش آئند ہے۔
جیو نیوز کی غیرمشروط معافی
جیو نیوز 10 محرم کو نشر ہونے والے مواد “سفرِ عشق” کے دوران ہونے والی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرتا ہے۔ اس مواد میں عراق اور کچھ دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں محدود تعداد میں افراد کی جانب سے اختیار کی جانے والی بعض رسومات کی عکاسی کی گئی تھی۔ یہ مواد محض ان مقامی رسومات کی عکاسی کرتی تھی اور اس کا مقصد کسی وسیع تر مذہبی نقطۂ نظر کی نمائندگی کرنا، اس کی تائید کرنا یا اسے فروغ دینا نہیں تھا۔
یہ مواد نہ تو جیو نیوز نے تیار کیا تھا اور نہ ہی اس کی اشاعت کسی ارادے یا مقصد کے تحت کی گئی تھی۔
ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ جیو نیوز مسلم امہ کے وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ عقائد اور حساسیت کے احترام کی اپنی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ ایسے مواد کی شمولیت ہمارے ادارجاتی مؤقف یا اداے کے نظریے کی عکاسی نہیں کرتا۔
متعلقہ مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا، اور ادارے نے فوری طور پر اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی۔ عوامی ردِعمل سے پہلے وضاحتیں اور معذرت نشر کی گئی تھیں۔
ہم کسی بھی تکلیف پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور مذہبی احترام کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔




