فریقین کو اسلام آباد ایم او یو اور قطر ڈیکلریشن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں: ترجمان دفترِ خارجہ

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال تشویش ناک ہے، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے، ہم فریقین کو اسلام آباد ایم او یو اور قطر ڈیکلریشن پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کے سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت ہیں، سعودی عرب کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، عراق کے ردِعمل سے متعلق فی الحال کوئی معلومات نہیں، حملے عراقی سر زمین سے کیے گئے، سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مشرقی صوبے اور ریاض کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کویت دفاعی تعاون معاہدہ پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے، دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں، تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا، پاکستان کا اردن اور بحرین کے ساتھ بھی مضبوط دفاعی تعاون موجود ہے، ضرورت پڑی تو نئے دفاعی تعاون معاہدوں سے آگاہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے ہائی کمیشنز میں معمول کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے انتظامی طریقہ کار مکمل کر لیا، ہائی کمیشنز میں عملے کی تعیناتی کا عمل سفیروں کی سطح پر نہیں بلکہ دفتری اور ورکنگ لیول پر انجام دیا گیا، پاکستان نے بھارتی یاتریوں اور دیگر زائرین کو قابلِ ذکر تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، عام بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے ویزوں کی تعداد بہت کم ہے، ویزوں کی تعداد بارے درست اعداد و شمار بعد میں فراہم کیے جائیں گے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان، کویت دفاعی تعاون معاہدہ پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے، معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں، تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا، پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ جون 2023ء میں طے پایا تھا، کویت نے اب اس کی توثیق مکمل کر دی ہے، پاکستان، کویت کے درمیان دفاعی تعاون چار دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں بعض اوقات صدور اور وزرائے اعظم دونوں سطحوں پر نمائندگی ہوتی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر تنازع کا واحد حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ، غیر جانبدارانہ استصواب رائے ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی کسی مقامی اسمبلی یا حکومت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی جگہ نہیں لے سکتا، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو قانونی جواز نہیں دے سکتا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کا مؤثر جواب پہلے ہی دے چکے ہیں، کارگل سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح اور ریکارڈ پر موجود ہے، یہ معاملہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا۔




