میر رضا کے والد نے ڈی آئی جی ایسٹ اور فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 29 جون کو مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان تاجر میر رضا کے والد میر حسین نے ڈی آئی جی ایسٹ اور فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
میر رضا کو انصاف دلانے کے لیے والد میر حسین کی قیادت میں طارق روڈ سے نرسری تک ریلی نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔
میر رضا کے والد میر حسین نے ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کے مرنے کے بعد سے ڈی آئی جی ایسٹ نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
میر حسین نے کہا کہ فیروز آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت دیگر کو معطل کیا جائے، انہوں نے تاخیر کی، ثبوتوں کو چھپانے کی کوشش کی، انہوں نے 2 دن تک ہمارے ساتھ گیم کیا۔
اس سے قبل گزشتہ روز میر رضا کیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم نے جہاں سے میر رضا کی لاش اس جگہ کا دورہ کیا، کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کراچی عامر فاروقی پہلی بار جائے وقوعہ پہنچے تھے، کمیٹی نے گیسٹ ہاؤس اور اطراف کا بھی دورہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔




