خیبر پختونخوا حکومت کا وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6.4 ارب کی کٹوتی سے انکار

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6.4 ارب کی کٹوتی سے انکار

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6 اعشاریہ 4 ارب روپے کی کٹوتی سے انکار کردیا۔

وزیراعلی سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وفاق نے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا تقاضا کیا تھا، صوبائی حکومت نے اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 6 اعشاریہ 4 ارب روپے کی مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی نہ اتفاق کیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ مالی سال 27-2026ء کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم شامل نہیں کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ کے پی کے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے، آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبےکی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا، کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔

سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ محکمہ خزانہ نے 13 اگست کے خط میں مجوزہ کٹوتی پر عدم رضامندی واضح کر دی، صوبے کی رضامندی کے بغیر کٹوتی نہ کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل کے پی کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنےکی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ 6 ماہ میں حصہ نہ ملنے پر 7ویں این ایف سی کے تحت سمری اور آرڈیننس کا فیصلہ کیا گیا تھا، بانی سے ملاقات نہ کرائے جانے پر اضافی رقم کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر چکے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کو غیر منظور شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر یکطرفہ رقم منہا کرنے کا اختیار نہیں، خیبر پختونخوا حکومت آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، آئینی راستہ اختیار کرے گی اور اپنے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا 15,260 ارب روپےکا ہدف حاصل ہونے پر کے پی کا حصہ 175 ارب روپے بنتا تھا، ضم اضلاع کو11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں جائز حصہ دینا بھی ہماری شرط تھی، ضم اضلاع کا حصہ دینےکی شرط وفاق نے تسلیم کی اور این ای سی کی کارروائی کا حصہ بنا یا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں