اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کنٹرول ختم کرکے پولیس کو اختیار دینے کا فیصلہ

اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کنٹرول ختم کرکے پولیس کو اختیار دینے کا فیصلہ

کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کنٹرول ختم کرکے پولیس کو اختیار دینے کا فیصلہ، حماس اور فلسطینی رہنماؤں کی مزمت، اقدام کو مغربی کنارے کو ہتھیانے کی جانب خطرناک پیش رفت قرار دے دیا۔ آبادکاروں کو مزید تحفظ اور فلسطینیوں پر تشدد بڑھنے کا خدشہ، ماہرین کا کہنا ہے مقبوضہ حیثیت ختم کرنیکی راہ ہموار ہوگی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے میں شہری نوعیت کے قانون نافذ کرنے کے اختیارات اسرائیلی پولیس کو منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے، جس پر فلسطینی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق پولیس ان معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فورس قائم کرے گی، جبکہ کاٹز کا مؤقف ہے کہ فوج کی بنیادی ذمہ داری فلسطینی عسکریت پسندی سے نمٹنا ہے، نہ کہ اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنا۔ فلسطینی اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی قانون کے بجائے اسرائیلی شہری قانون کے نفاذ سے مغربی کنارے کی مقبوضہ حیثیت عملاً ختم کرنے اور اسرائیلی الحاق کی راہ ہموار ہوگی۔ فلسطینی قیادت نے اس فیصلے کو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قانون و خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ حماس نے اسے آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو مزید تحفظ دینے والا خطرناک قدم قرار دیا۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ پولیس کے اختیارات قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے زیراثر آنے سے آبادکاروں کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور فلسطینیوں پر دباؤ، تشدد اور بے دخلی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین نے موجودہ صورتحال کو مغربی کنارے میں نسلی امتیاز، علیحدگی اور بتدریج جبری بے دخلی کے ایک نئے مرحلے سے تعبیر کیا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں