سندھ ہائیکورٹ نے 15 کلو منشیات برآمدگی مقدمے کے 3 ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دیدیں

سندھ ہائیکورٹ نے 15 کلو منشیات برآمدگی مقدمے کے 3 ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دیدیں

سندھ ہائیکورٹ نے رکشے سے 15 کلو سے زائد منشیات برآمدگی کے مقدمے میں 3 ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے بیان کے وقت اس کے سامنے پیش نہ کی جانے والی شہادت کو سزا کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔

عدالت کے مطابق منشیات کے مقدمات میں کیمیکل جانچ کی رپورٹ بنیادی اہمیت رکھتی ہے، تاہم ملزمان کے دفعہ 342 کے بیانات ریکارڈ کرتے وقت کیمیکل جانچ کی رپورٹ ان کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔

سرکاری وکیل کے مطابق ایس آئی یو نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان ارسلان، عین الدین اور علی مرتضیٰ کو گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے مجموعی طور پر 15 کلو سے زائد منشیات برآمد ہوئی تھی۔

ٹرائل کورٹ نے تینوں ملزمان کو 14، 14 برس قید اور 4، 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ملزمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ رشوت کی رقم نہ دینے پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

عدالت نے کیس کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ برآمد شدہ منشیات کو مال خانے میں جمع کرانے سے متعلق استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں تضاد موجود ہے۔

مال خانے کی دستاویز پر کسی کے دستخط بھی موجود نہیں جبکہ برآمد شدہ منشیات لیبارٹری بھیجنے کی تاریخوں میں بھی فرق پایا گیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ کیس کے دوران اہم دستاویزات عدالت میں پیش ہی نہیں کی گئیں۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ یا تو ملزمان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا یا پھر تفتیش انتہائی ناقص انداز میں کی گئی۔

عدالت نے تینوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں