پمز اسپتال سانحے کی وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق فوری، جامع تحقیقات کی جائیں گی: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال سانحے کی وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق فوری، جامع تحقیقات کی جائیں گی، ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پمز اسپتال واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ درد ناک واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مشکل گھڑی میں سوگوار خاندانوں کو صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے، ہمارے بچوں کی حفاظت ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا جبکہ سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج دے دیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ کیا آپ مستعفی ہو رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں، وزیراعظم نے انہیں کچھ باتیں کرنے سے روکا ہے۔ پہلے وزیراعظم سے بات کرلیں، پھر کچھ کہیں گے۔
واقعے کے ذمے داروں کے تعین کیلئے وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔
اسی دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا۔ چنگاری کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑلی۔
والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ دروازے بھی بند تھے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی لگایا۔
سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی ہے کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔




