لاہور ہائیکورٹ: قتل کیس میں عمر قید کی سزا کالعدم، ملزم کو بری کرنے کا حکم

---فائل فوٹو
—فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر حیات کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے مقدمے سے بری کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ عمر حیات کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ شک کا فائدہ رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقتول محمد آصف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ قانون کے مطابق ثابت نہیں کی گئی۔

ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر خالد محبوب کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا اور ڈاکٹر کے بیرونِ ملک ہونے کی صورت میں ثانوی شہادت پیش کرنے کے لیے بھی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مقدمے کے چشم دید گواہ محمد حنیف اور محمد علی کے بیانات بھی قابلِ اعتماد نہیں۔

واضح رہے کہ تھانہ جڑانوالہ پولیس نے شہری عمر حیات کے خلاف 2018ء میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں