پمز سانحہ: سی سی ٹی وی سے عملے کی بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہونے کا انکشاف
پمز سانحے کی عبوری انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے، رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پمز نرسری سانحہ کی انکوائری رپورٹ 11 صفحات پر مشتمل ہے، انکیوبیٹر، وارمر، اے سی، پلگ، ساکٹ یا وائرنگ سے آگ لگنے کا امکان بتایا جارہا ہے، آئیسکو ریکارڈ میں بیرونی بجلی کی لائن میں خرابی یا ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا، آگ لگنے کے صرف دو منٹ میں نرسری دھوئیں اور آگ سے تقریباً مکمل متاثر ہوگئی۔
سی سی ٹی وی سے ڈاکٹرز، نرسز اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت ہوگئیں، ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کے بچوں کو چھوڑ کر بھاگنے کا عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوا، اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی نرسری سے ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالا، چارج نرس نسرین نے فوری طور پر مدد طلب کی، سیکیورٹی گارڈ ماریا بھی نرسری میں داخل ہوئی۔
سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورتحال 6:38 بجے شروع ہوئی، سی ای ایس کو پہلی کال 6:54 پر موصول ہوئی، 6:55 پر عملہ روانہ کیا، تقریباً 7:01 پر جائے وقوعہ پہنچ گیا، کال میں 16 منٹ کے فرق کی ذمہ داری فی الحال کسی فرد یا ادارے پر عائد نہیں کی گئی، پمز کنٹرول روم، ٹیلی فون ریکارڈ اور سی ای ایس کال ریکارڈ سے تاخیر کی مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے، پمز نرسری کے لیے مخصوص فائر اور نومولود بچوں کے انخلا کا جامع ایس او پی سامنے نہیں آ سکا۔
رپورٹ کے مطابق آگ کی صورت میں الارم کون بجائے گا، ریسکیو کو کون اطلاع دے گا، واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا، نومولود بچوں کے انخلا، آکسیجن و بجلی بند کرنے اور واقعہ کی کمان کے واضح طریقہ کار کا فقدان رہا، پمز سیکیورٹی ایس او پی میں فائر سیفٹی ایگزٹس، آلات اور عملے کی تربیت کی ذمہ داری واضح تھی۔
فائر ایگزٹس بند یا رکاوٹ زدہ ہونے کا انکشاف ہوا، فائر فائٹرز کو بعض دروازے توڑ کر کھولنا پڑے، سی ای ایس نے پمز میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور متاثرہ قرار دیا، پمز نرسری سانحہ، ایمرجنسی راستوں کی صورتحال پر ذمہ داران کے تعین کی سفارش کی گئی ہے۔
جولائی کی آگ کی انکوائری میں بھی اسموک ڈیٹیکشن، الارم، فائر ڈرلز اور انخلا کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی، 25 اگست کو، نرسری سانحہ سے ایک روز قبل، جولائی کی انکوائری رپورٹ پر مزید ترامیم کی جا رہی تھیں، پمز میں پہلے سے معلوم فائر سیفٹی خامیوں پر کارروائی نہ کرنا ذمہ داری کے تعین میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
فائر سیفٹی کی خامیوں سے متعلق سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی مکمل تفصیلات طلب کرنے کی سفارش کی گئی، پمز اسپتال کا فوری فائر اور لائف سیفٹی آڈٹ کروانے کی سفارش کی گئی، نرسری، این آئی سی یو، آئی سی یوز اور آپریشن تھیٹرز کے فائر سیفٹی آڈٹ کی سفارش کی گئی، تمام فائر ایگزٹس، اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم، ایمرجنسی لائٹس اور فائر ایکسٹنگوئشرز کی فوری جانچ کی سفارش کی گئی۔
تمام انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی، پلگز، ساکٹس، وائرنگ اور برقی نظام کی فوری تکنیکی جانچ کی سفارش کی گئی، خطرناک علاقوں میں خود کار فائر سیفٹی نظام ناکافی ہونے پر عارضی فائر واچ تعینات کرنے کی سفارش کی گئی، ڈاکٹرز، نرسز، سیکیورٹی اور انجینئرنگ عملے کے لیے عملی فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ڈرلز کروانے کی سفارش کی گئی، پمز سانحہ، انکوائری رپورٹ میں انتظامی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز چوہدری وارث علی رضا، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد، فائر سیفٹی اور سیکیورٹی چین میں ذمہ دار افسران، سی ای ایس اور سکییورٹی کمپنی کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کی آگ کے بعد فائر سیفٹی خامیوں پر مناسب اقدامات نہ کرنے پر سی ای ایس بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر عبدالرؤف/ عبدالرحمان کے خلاف معطلی اور کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان کے خلاف غیر حاضری اور غفلت پر کارروائی کی سفارش، بیلفورٹ سیکیورٹی سروسز کے خلاف متعلقہ قانون اور معاہدے کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی، پمز سانحہ، بعض معاملات میں فوجداری تحقیقات کی ضرورت بھی محسوس کی گئی، ایمرجنسی فائر ایگزٹس کے بند یا رکاوٹ زدہ ہونے کا معاملہ فوجداری تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں فائر ایگزٹس کے ذمہ دار افراد کی غفلت ثابت ہونے پر فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جولائی میں نشاندہی شدہ فائر سیفٹی خامیاں دور نہ کرنے کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے، ایمرجنسی سروسز کو کال میں تاخیر ثابت ہونے پر فوجداری ذمہ داری کا تعین کیا جائے، فوجداری جرم کا حتمی فیصلہ تفتیشی اور عدالتی اداروں کا اختیار ہوگا۔
پمز سانحہ میں انتظامی، محکمانہ، معاہداتی اور فوجداری ذمہ داریوں کو الگ الگ رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا کہ احتساب صرف آگ لگنے والی پہلی چنگاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے، جامع رپورٹ میں ذمہ داری کا حتمی تعین فرض، علم، کوتاہی اور نتیجے کے مکمل شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔




