شوہر 11 تولہ سونا بطور بدلِ خلع واپس لینے کا حقدار نہیں، 15 سال پرانے فیملی تنازع کیس کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے 15 سال پرانے فیملی تنازع کے کیس کا فیصلہ سنا دیا اور خلع کے باعث بیوی کو 11 تولہ سونا واپس نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
عدالت عالیہ کے جسٹس راحیل کامران نے درخواست پر 18 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق شوہر 11 تولہ سونا یا اس کی قیمت بطور بدلِ خلع واپس لینے کا حقدار نہیں، درخواست گزار نے 2011 میں شوہر سے خلع، نان نفقہ اور سونے کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا، درخواست گزار کے مطابق 11 تولے سونا اس کے والد نے رقم دے کر دلوایا تھا۔
تحریری فیصلے کے مطابق شوہر کا مؤقف تھا کہ 11 تولہ سونا اس نے خود فراہم کیا اور خلع کی صورت میں واپس ملناچاہیے۔
عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نے 2018 میں 11 تولہ سونا شوہر کو بطور بدلِ خلع واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزارنے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی، سیشن کورٹ نے 2020 میں فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے 2020 میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، شوہر 11 تولہ سونا اپنے وسائل سے خریدنے کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہ کرسکا۔
فیصلے کے مطابق نابالغ بچے کا نان نفقہ والد کی قانونی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے، شوہر نےاپنی مالی حیثیت کے بارے میں متضاد مؤقف اختیار کیا۔
عدالت عالیہ کے تحریری فیصلے کے مطابق شوہر نے سونے کے ساتھ گھر بھی واپس لینے کی استدعا کی تھی، فیملی کورٹ کا شوہر کو گھر واپس نہ دینے کا فیصلہ درست تھا، خاتون کے والد کو مکان کا قبضہ دینے کی سول عدالت کی ڈگری برقرار رکھی جاتی ہے۔




