پمز آتشزدگی: عالیہ کامران نے وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی پر تحفظات ظاہر کردیے
جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی، ف) کی خاتون رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے پمز آتشزدگی پر وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، راجا خرم نواز، سبین غوری اور عالیہ کامران سمیت دیگر ارکان نے اظہار خیال کیا۔
مصطفیٰ کمال نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ آگ لگنے کے واقعہ کے بعد شام 4 بجے وزیراعظم شہبا زشریف نے کمیٹی بنادی، ہم نے اس کمیٹی کے بعد کوئی انویسٹی گیشن نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ تمام معلومات کمیٹی کے پاس ہیں، ان کو بلائیں وہ تفصیلات دیں گے، کمیٹی نے کہا ہے کہ فارنزک کے بغیر پتہ نہیں چل سکتا کہ آگ کیسے لگی۔
اس موقع پر عالیہ کامران نے کہا کہ سیاسی طور پر کسی نے ذمے داری قبول نہیں کی، پوری دنیا میں ایسے واقعات پر ذمے داری قبول کی جاتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم کی بنائی کمیٹی پر تحفظات ہیں، فوجداری مقدمہ کیسے درج ہوتا ہے؟ شہباز شریف نے بھی لولی پاپ دیا ہے۔
عالیہ کامران کا مزید کہنا تھا کہ جس نے ڈیوٹی کی اس کو انعام دے دیا، یہ تو اُس کا فرض تھا، جس نے ڈیوٹی نہیں کی اس کو کوئی پوچھ نہیں رہا، شکر کریں 10 کروڑ کا انعام نہیں دے دیا۔
دوران اجلاس راجا خرم نواز نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر کے پاس عہدے کے حساب سے اختیار بھی ہونا چاہیے، اسپتال میں سیکیورٹی کمپنی کی خواتین نے بچوں کو کیوں نہیں بچایا۔
انہوں نے کہا کہ نرس نے اپنا کام کیا ہے، اس کو انعام کیوں دے رہے ہیں، ذمے داروں کا تعین ہوگیا تو مقدمات کیوں نہیں ہوتے، کہا گیا تھا فوجداری مقدمات ہوں گے، ان پر ہونے چاہیے۔
ایم این اے سبین غوری نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے اورپمز سے متعلقہ تمام ڈپارٹمنٹس کو بلائیں۔




