بلوچستان کے ساحل پر اسٹنگ رے کا بڑے پیمانے پر شکار، سمندری تنوع متاثر ہونے کا خدشہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر معظم خان نے کہا ہے کہ کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اسٹنگ رے کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جا رہا ہے، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع اور ایکو سسٹم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

معظم خان کے مطابق اسٹنگ رے کو مقامی زبان میں پیٹن کہا جاتا ہے، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس مچھلی کی آبادی میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیتے جیسے نشانات والی اسٹنگ رے کو مقامی سطح پر معدومیت کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

معظم خان کا کہنا تھا کہ اسٹنگ رے کا گوشت ذائقے کے اعتبار سے پسند نہیں کیا جاتا اور پاکستان میں عام طور پر اسے کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، تاہم اس مچھلی کو تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا برآمد کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ 12 برس کے دوران اسٹنگ رے کے ’ونگز‘ (پروں) کی برآمد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث اس کے شکار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹنگ رے کا بے دریغ شکار سمندری حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے توازن کو متاثر کرسکتا ہے، اس لیے اس کے شکار اور تجارت کی نگرانی اور مؤثر انتظام ضروری ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں