سسٹم ڈلیور نہیں کر رہا، حل یہی ہے 160 بااختیار ضلعی حکومتیں یا 15 صوبے بنادیے جائیں: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دے دی ۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ بدین سے گھوٹکی تک جتنی بڑی آبادی ہے، پورا صوبہ کراچی سے نہیں چلایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان سے اٹک تک کے پنجاب کو لاہور سے نہیں چلایا جاسکتا۔ اسی طرح ڈی آئی خان سے چترال تک کے خیبر پختونخوا کو پشاور سے نہیں چلاسکتے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بلوچستان کو پسنی سے ژوب، قلعہ سیف اللّٰہ سے کوئٹہ تک سیکریٹریٹ سے چلائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ حل یہی ہے کہ 160 بااختیار ضلعی حکومتیں بنائی جائیں یا 15 صوبے بنادیے جائیں۔ ہمارے ہمسائے ملک میں 1947ء کے بعد سے درجن نئے صوبے بن چکے ہیں۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ اس مرکزیت کے ساتھ جو آبادی کا دباؤ ہے، سسٹم اوور لوڈڈ ہے، انتظامی طور پر سسٹم میں توازن کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنازعہ بات نہیں کرنا چاہتا، سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے وہ اپنی قرارداد پاس کرسکتی ہے۔ پاکستان کے عوام کو اچھی تعلیم، صحت، صفائی، صاف پانی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تمام ایشوز کسی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑے ہیں۔ حل یہی ہے کہ 160 اختیار والی ضلعی حکومتیں بنادیں یا 15 صوبے بنادیے جائیں۔




