لاہور ہائیکورٹ: بچوں کے نان نفقے سے متعلق کیس کا حکم نامہ جاری

لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کے نان نفقے سے متعلق کیس کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے والدین کا رضا مندی سے بچوں کا خرچہ 30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے 6 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق والدین آپس میں سمجھوتا کر سکتے ہیں لیکن بچے کے حق کا سودا نہیں کر سکتے، والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچے کا نان نفقہ کم یا ختم نہیں کر سکتے۔
لاہور ہائی کورٹ نے نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کا نان نفقہ والدین نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے، والدہ بطور سرپرست بچے کا نان نفقہ معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ والدین کسی سمجھوتے کے ذریعے بچے کا قانونی حق کم یا ختم نہیں کر سکتے، فیملی کورٹ صرف والدین کے سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں، عدالت کو نان نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی ضروریات اور فلاح و بہبود کا جائزہ لینا ہو گا۔
عدالت نے کہا ہے کہ نان نفقہ مقرر کرتے وقت والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت بھی دیکھی جائے، والدین کی رضامندی سے زیادہ بچے کی ضروریات اور مفاد کو اہمیت حاصل ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا اور حکم دیا کہ فیملی کورٹ بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت دیکھ کر نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کرے۔
واضح رہے کہ فیملی کورٹ نے 2012ء میں بچوں کا ماہانہ نفقہ 50 ہزار روپے کرنے اور سالانہ 10 فیصد اضافے کا فیصلہ دیا تھا۔
2024ء میں والدہ کی رضامندی سے نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا نان نفقہ 30، 30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیا گیا تھا۔




