جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مطابق تو خیبر پختونخوا میں عملاً ایمرجنسی نافذ ہے: اسد قیصر

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مطابق تو خیبر پختونخوا میں عملاً ایمرجنسی نافذ ہے۔ صوبائی حکومت کی رٹ اور حقوق سے انکار کیا جارہا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ سی ایم امن و امان کے ذمہ دار ہیں، وزیراعلیٰ کے عمل دخل کو یہ تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ہم نے اپنے ایشوز حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔ یہ حکومت پر ہے کہ کیا پالیسی اپناتی ہے حالات کس طرف لے جاتی ہے۔ فیصلہ ہے کہ گورنر راج، ایمرجنسی یا سہیل آفریدی کو نااہل کرتے ہیں تو ہم ایوانوں سے نکلیں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرتا ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں سنجیدہ صورتحال ہے۔ اپنے صوبے میں ہم وزیر اور رکن اسمبلی کا تحفظ نہیں کرسکتے ان کو اٹھایا جاتا ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ جتنے ڈی پی اوز لگتے ہیں کسی پر وزیراعلیٰ سے مشاورت نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ خیبر میں جن کو ڈی پی او لگانا چاہتے تھے انکار کرکے ان کو باجوڑ میں ڈی پی او لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا اضلاع میں پولیس کیلئے 30 ارب میں سے 10 ارب روپے وفاق نے دینے تھے۔ صوبائی حکومت نے 20 ارب روپے رکھے وفاق نے ایک روپیہ نہیں رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبر پختونخوا پولیس کانسٹیبل کی تنخواہیں پنجاب پولیس کانسٹیبل کے برابر کیں۔ خیبر پختونخوا پولیس افسران کی تنخواہ بلوچستان پولیس افسران کے برابر کی۔ خیبر پختونخوا پولیس کے بجٹ میں 41 فیصد اضافہ کیا گیا۔

اسد قیصر نے کہا کہ فاٹا کا انضمام کیا گیا لیکن جو مالی وعدہ کیے گئے وہ پورے نہیں کیے گئے۔ کمیٹی میں بھی کہا کہ امن و امان اور دہشتگردی کے خاتمے پر سیاست بالکل نہیں کرنی۔



50% LikesVS
50% Dislikes
October 2026
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں