میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی

میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تحقیقات  کیلئے سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو جے آئی ٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جےآئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل ہیں۔

جے آئی ٹی کراچی کے تھانا فیروز آباد میں درج مقدمہ نمبر 795/2026 کی تحقیقات کرے گی، جے آئی ٹی کو ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے رپورٹ، چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے، سندھ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کی ہدایت کردی۔

میر رضا علی کیس میں فزیکل، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، موبائل فون، اسمارٹ واچ، سوشل میڈیا، دیگر اکاؤنٹس کا ریکارڈ تحقیقات کا حصہ ہوگا۔

خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا، ڈرائیور نے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں