قومی اسمبلی: کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی نے کام کی جگہ پر خواتین کی ہراسانی کے خلاف قرارداد پیش کی۔ 

قرارداد میں ہراسانی کی تعریف کو صرف جنسی نوعیت کے رویے تک محدود نہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ 

قرارداد کے مطابق صنفی امتیاز، دھمکانا، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخاصمانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے خواہ اس کی نوعیت جنسی ہو یا غیر جنسی۔ 

اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جنسی پیش قدمی یا مطالبے کی عدم موجودگی صنفی بنیادوں پر ہراسانی یا امتیازی سلوک کی سنگینی کم نہیں کرتی۔ 

قرار داد میں آئین کے آرٹیکل 14 اور 25 کے تحت ہر فرد کے وقار، مساوات اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ 

ایوان نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ کے قانون 2010 اور 2022 کی ترامیم کے تحت صنفی امتیاز کو بھی ہراسانی کی قانونی تعریف میں شامل قرار دیا۔

قرارداد میں وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کا شکار افراد کو بھی قانونی تحفظ مل سکے۔ ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں