کمسنی کی شادی پر پابندی کے قانون کا نفاذ سے قبل کی شادیوں پر اطلاق نہیں ہو گا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026ء (کمسنی کی شادی پر پابندی کے قانون) کا ماضی سے اطلاق غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے نفاذ سے پہلے ہونے والی شادی پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ لڑکی کو کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنا درست نہیں تھا کیونکہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
دورانِ سماعت جسٹس خالد ابن عزیز نے ریمارکس دیے کہ لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف دارالامان میں رکھنا غیر قانونی تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ خوشاب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لڑکی کے والد کی درخواست مسترد اور فوجداری نظرِ ثانی کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے لڑکی کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت بھی دے دی۔
Load/Hide Comments




