ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابلِ سماعت قرار

ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابلِ سماعت قرار
عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں—فائل فوٹو
عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں—فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔

جسٹس وقار احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی رٹ ناقابلِ سماعت ہونے سے متعلق دلائل مسترد کیے جاتے ہیں، ہائی کورٹ آئینی اختیارات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔

عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان ہائیکورٹس میں رٹ دائر کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نے کہا ہے کہ درخواست گزاروں کو معلوم نہیں تھا کہ ان پر الزام کیا ہے، وفاق کا مؤقف ناقابلِ قبول ہے کہ ملزمان کا اپیل کا وقت گزر چکا ہے، اگر فورم موجود نہیں یا وقت گزر چکا ہو تو رٹ ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ثابت نہیں کر سکی کہ ملزمان کو فیصلے کی کاپی یا ریکارڈ فراہم کیا گیا، ملزمان کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ریکارڈ تک رسائی حاصل کریں، ملزمان کو درکار ریکارڈ اور تفصیلات فراہم کی جائیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
March 2026
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

اپنا تبصرہ بھیجیں