جو ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں یہ نہ سوچیں کہ ہم آپ کو بھولیں گے: بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جو ایف آئی آر کٹوا رہے ہیں یہ نہ سوچیں کہ ہم آپ کو بھولیں گے۔ الیکشن ہونے دیں میں خود آپ کو دیکھ لوں گا۔
کوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے، عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنیں گے، حکومت بنانے کے لیے وہ کوٹلی سے ہر سیٹ پر جیتنا چاہتے ہیں۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن ہے، عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنوں گا، سیاست دانوں کا کام عوام کی آواز بننا ہے، الیکشن میں کامیابی دلوانا آپ کا کام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی 6 ماہ سے آزاد کشمیر میں حکومت ہے، آپ نے پچھلے الیکشن سے بھی بہتر نتائج دلوانے ہیں، ہم آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق میں ہمارے دوست شہباز شریف کی حکومت ہے، منشور کے مطابق گلگت بلستان والوں سے وعدہ کیا، گلگت بلستان کے عوام کا مشکور ہوں پیپلز پارٹی کو جیت دلوائی، اب مجھے گلگت بلتستان والوں سے کیا وعدہ پورا کرنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حق حاکمیت، حق ملکیت، حق روزگار دلواؤں گا، میں یہاں بھی وہی منشور لایا ہوں جو گلگت بلتستان میں تھا۔
پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جو نظام چل رہا ہے اگر چاہتے ہو یہی رہے تو آپ کی مرضی ہے، میں سمجھتا ہوں کشمیر کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں، چاہتا ہوں لاڑکانہ کے ایم این اے کے ساتھ کشمیر کا ایم این اے بھی میرے ساتھ قومی اسمبلی میں ہو، گلگت بلتستان میں پہلی بار وفاق کو شکست ہوئی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایکشن کمیٹی والوں نے مجھے خط لکھا کہ پیپلز پارٹی حالات دیکھ کر اپنا کردار ادا کرے، میں نے ان کو خط کا جواب دیا، وزیر اعظم کو بھی بتایا ایک حل ہے میں اپنا کردار اد اکرنے کیلئے تیار ہوں۔ ایک ٹرتھ کمیشن بنایا جائے، تحقیقات کرے سچ کیا ہے، احتجاج کرنے والوں سے مطالبہ ہے تحقیقات تک اپنا احتجاج بند کریں، وفاق سے اپیل ہے ٹرتھ کمیشن کے کام مکمل کرنے تک مزید کارروائی نہ کریں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ میرے خط کا جواب احتجاج کرنے والوں اور وزیر اعظم کے نمائندوں نے نہیں دیا، اگر میرے مطالبے پر یقین نہیں رکھتے تو کوئی اور حل بتا دیں۔ احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ آپ سزا یہاں کے رہنے والوں کو دے رہے ہو۔ ریاست پاکستان سے بھی درخواست ہے کہ انٹرنیٹ پر پابندی اٹھا دیں، اس قسم کی اجتماعی سزا نہیں دی جاتی، کشمیر کے موجودہ حالات سے ہر کشمیری پریشان ہے، مجھے احساس ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کیلئے نکلنے والے واپس نہیں آئے، میں ان کے گھر والوں کا احساس کرتا ہوں، احتجاج کیلئے نکلنے والے گھر واپس نہیں آئے، میں ان کا احساس کرتا ہوں۔ امید کرتا ہوں انتخابات سے پہلے کشمیر سے موبائل فون سروس بحال ہوجائے گی، ہمیں کشمیر کے حالات بہتر کرنے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ کے سیالکوٹ کے وزیر نے جو کشمیریوں کے خلاف بیان دیا ہے کیا وہ آپ کی پالیسی ہے؟ جب تک وہ وزیر کابینہ میں رہے گا ہم سمجھیں گے کہ یہ آپ کی پالیسی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو وزیر کشمیر کو اور آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اسے دور کرنا چاہیے، وفاق اور مسلم لیگ (ن) کو ایسے وزیر کو دور کرنا چاہیے، ایسے وزیر کا کوئی حق نہیں کہ وزیر اور ممبر اسمبلی رہے، کشمیر کا مستقبل آپ کی جیب میں نہیں، کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے۔




