حکومتِ سندھ کا جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ اجلاس کو مؤخر کرنے کا مشورہ

حکومتِ سندھ کا جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ اجلاس کو مؤخر کرنے کا مشورہ
حکومتِ سندھ کا جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ اجلاس کو مؤخر کرنے کا مشورہ

حکومت سندھ نے 27 جولائی کو منعقد ہونے والے جامعہ کراچی کے 662ویں سنڈیکیٹ اجلاس کو مؤخر کرنے کا مشورہ دے دیا۔

سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی مدتِ ملازمت کے آخری روز منعقد ہو رہا ہے جبکہ اس کے ایجنڈے میں شامل متعدد اہم انتظامی، مالی اور پالیسی معاملات ایسے ہیں جن کے طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے، لہٰذا ان پر فیصلہ نئے مستقل وائس چانسلر کی سربراہی میں ہونے والے سنڈیکیٹ اجلاس میں کیا جانا چاہیے۔

حکومت سندھ کے محکمہ بورڈز و جامعات کی جانب سے 20 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری مراسلے میں وائس چانسلر کو یاد دلایا گیا ہے کہ ان کی مدتِ ملازمت 27 جولائی کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ اسی روز جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ کا 662واں اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

سرکاری خط میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ اجلاس کے ایجنڈے میں سلیکشن بورڈ کی سفارشات، تقرریاں، مالی معاملات، سروس سے متعلق امور اور دیگر اہم انتظامی و پالیسی فیصلے شامل ہیں، جن کے نتیجے میں جامعہ پر طویل المدتی قانونی، مالی اور انتظامی ذمہ داریاں عائد ہوں گی اور یہ فیصلے یونیورسٹی کے مستقبل کے نظم و نسق پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

حکومت نے اپنے مراسلے میں مزید کہا ہے کہ جامعہ کراچی اس وقت مختلف انتظامی اور مالی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ اتنے اہم نوعیت کے معاملات پر وائس چانسلر کی مدت کے آخری روز فیصلہ کرنا ادارہ جاتی مفاد کے مطابق نہیں ہوگا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ ادارہ جاتی تسلسل، گڈ گورننس اور انتظامی شفافیت کے تقاضوں کے پیش نظر ان معاملات پر غور نئے مستقل وائس چانسلر کی سربراہی میں ہونا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ انہی فیصلوں پر عمل درآمد، نگرانی اور جوابدہی بھی نئے وائس چانسلر کی ذمہ داری ہوگی۔

اسی بنا پر حکومت سندھ نے وائس چانسلر کو مشورہ دیا ہے کہ 27 جولائی کو ہونے والا 662واں سنڈیکیٹ اجلاس نئے مستقل وائس چانسلر کی تقرری اور عہدہ سنبھالنے تک مؤخر کر دیا جائے تاکہ مذکورہ تمام اہم معاملات ان کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیے جا سکیں۔

سرکاری خط کی نقول وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری، چیف سیکریٹری سندھ، جامعہ کراچی کے تمام سنڈیکیٹ اراکین، وزیر جامعات و بورڈز کے پرائیویٹ سیکریٹری اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

اس پیش رفت کو جامعہ کراچی کی انتظامی اور پالیسی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر حکومت کے مشورے پر عمل کیا جاتا ہے تو سلیکشن بورڈ کی سفارشات، نئی تقرریوں، مالی منظوریوں اور دیگر اہم انتظامی فیصلوں پر غور نئے مستقل وائس چانسلر کی تقرری تک مؤخر ہونے کا امکان ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں