سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کا اجلاس، ایم ڈی کیٹ ریفارمز کا جائزہ

سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا ہے کہ اے لیول اور ایف ایس سی میں بہت فرق ہے، پاکستان کا تعلیمی نظام سب کے سامنے ہے۔
کنوینر سینیٹر ثمینہ زہری کی زیر صدارت سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اے لیول اور ایف ایس سی سے فرق نہیں پڑتا، ایم ڈی کیٹ میں وہ سوال ہوتے ہیں کہ دونوں طرح کے بچے جواب دے سکیں۔
وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ پاس 95 ہزار بچوں میں دیکھنا ہوگا اے لیول اور ایف ایس سی والے کتنے ہیں؟ پانچ سال کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ہم کمیٹی ممبران کی تفصیل کمیٹی کو 24 گھنٹے میں جمع کروا دیں گے۔ جس پر انوشہ رحمان نے مصطفیٰ کمال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ کمیٹی صرف آپ کو اسسٹ کر رہی ہے، اسسمنٹ کمیٹی کے ممبران کی تفصیلات کمیٹی ممبران نے طلب کرلیں۔
وفاقی وزیر صحت نے 24 گھنٹے میں کمیٹی ممبران کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ پی ایم ڈی سی پالیسی کو پھر دیکھیں۔
سینیٹر شاہ زیب نے کہا کہ پاکستانی یونیورسٹی کا پڑھا ہوا جس کو امریکی یونیورسٹی جانا ہے وہ ایم ڈی کیٹ کیوں دے؟ آپ نے جو اشتہار دیا ہے اس میں یہ لکھا ہوا ہے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہم یہ پالیسی دیکھ لیتے ہیں۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ لازمی دیکھیں جو باہر جا رہے ہیں وہ ایسی یونیورسٹی میں داخلہ نہ لیں جو ریڈ فلیگ ہو۔
چیئرمین پی ایم ڈی سی ریفارمز کمیٹی نے کہا کہ بچہ باہر جانے سے پہلے ہمارے پاس رجسٹر ہوتا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ 40 ہزار بچے 80 کروڑ ڈالر باہر لے کر جا رہے ہیں۔
اس پر انوشہ رحمان نے کہا جب یہ بچے کمائیں گے تو پھر واپس بھی لے آئیں گے۔




