وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرفی ہراسانی قرار دے دی

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرفی ہراسانی قرار دے دی

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپاہ) نے زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برطرفی ہراسانی قرار دے دی۔ خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹی کے دوران نوکری سے برخاست کرنے پر نجی ادارے پر پانچ لاکھ روپے جرمانے عائد کرتے ہوئے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

نجی ادارے کو زچگی کی چھٹیوں کے دوران خاتون ملازمہ کو برطرف کرنا مہنگا پڑ گیا۔

فوسپاہ کے مطابق خاتون کی 13 نومبر 2025 سے 13 مئی 2026 تک چھ ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی منظور کی گئی تھی تاہم چھٹی کے دوران انتظامیہ نے خاتون کو مقررہ مدت سے قبل واپس ڈیوٹی پر آنے کا کہا جس پر شکایت کنندہ نے وضاحت کی کہ سی سیکشن آپریشن سے صحتیابی، نومولود بچے کی کم عمری اور بچے کی نگہداشت کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث وہ قبل از وقت واپسی سے قاصر ہیں۔

زچگی کی چھٹی پر ہونے کے باوجود، بغیر کسی تادیبی کارروائی، وارننگ یا شوکاز نوٹس کے خاتون کے آفیشل ای میل اکاؤنٹ تک رسائی منسوخ کر دی گئی۔

فوسپاہ کے مطابق ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب شکایت کنندہ قانونی طور پر منظور شدہ زچگی کی چھٹی پر تھیں، خاتون کی چھٹی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ یہ زچگی کی بنیاد پر امتیازی سلوک صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔

فوسپاہ نے ہدایت کی کہ شکایت کنندہ کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پر پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے اور نجی ادارہ 15 دنوں کے اندر دستاویزی شواہد کے ساتھ تعمیلی رپورٹ رجسٹرار کو جمع کروائے۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں