مکہ میں دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ مکہ میں دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ عالمِ اسلام کے ممالک کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
پشاور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کوششں کریں کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی معاہدے میں شامل ہوں، مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے ایک طاقتور نیٹ ورک بنانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنا حکومتوں کی ذمے داری ہے، یہاں امن کے لیے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے، بیرونی سازشیں اندرونی حالات کی وجہ سے کامیاب ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، جنوبی اضلاع میں اس وقت حالات بہت خراب ہیں، نیشنل ایکشن پلان میں روزگار اور تعلیم بھی شامل تھا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات طے کریں، افغان بارڈر ٹریڈ پر کام ہونا چاہیے اور مسئلہ حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جنگ ختم ہونے کے بعد بھی پیٹرول کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی لیوی کی مد میں بڑی آمدنی کی، پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی آڑ میں یہ اپنی کرپشن چھپا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت نا اہلی اور کرپشن عروج پر ہے، آئی پی پیز مافیا کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہوگا، 16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنا دیا جائے گا، پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس، سندھ اور خیبر پختونخوا میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا ہوگا۔




