مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 29 جون کو مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا۔
سیشن عدالت نے محمد احمد کی ایک لاکھ روپے میں عبوری ضمانت منظور کرلی، عدالت نے پولیس کو میر رضا کے بزنس پارٹنر کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے محمد احمد کو پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
محمد احمد کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کو پولیس کی جانب سے بار بار بلا کر تنگ کیا جا رہا ہے، درخواست گزار میر رضا کے بچپن کا دوست ہے، جو حیدری کی برانچ چلاتا تھا جبکہ میر رضا بہادر آباد کی برانچ چلاتا تھا۔
وکیل نے کہا کہ درخواست گزار پولیس تحقیقات میں تعاون کر رہا ہے، خدشہ ہے پولیس درخواست گزار کو مقدمے میں گرفتار کر لے گی۔
دوسری جانب میر رضا کیس میں تفتیشی ٹیم کا فیروز آباد تھانے میں اجلاس ہوا، جس میں تفتیش سے متعلق اہم فیصلے کیےگئے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کیلئے کمیٹی اراکین کو مختلف ٹاسک دیے گئے، میر رضا کے اہلخانہ کا باضابطہ بیان ریکارڈ کیا جائے گا، حراست میں لیے گئے 21 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے اراکین نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے وہاں سے مزید شواہد حاصل کیے، تحقیقاتی ٹیم کے ہمراہ پرانا تفتیشی افسر بھی موجود تھا۔
علاوہ ازیں میر رضا قتل کیس میں نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے رابطہ کر لیا، مقتول کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں۔
نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو 4 خطوط لکھ دیے، خط میں لکھا کہ مقتو ل کی اسمارٹ واچ کا فرانزک بھی کیا جائے، اسمارٹ واچ گذشتہ روز این سی سی آئی اے کے حوالے کی گئی تھی۔
دوسری جانب مقتول کے اہلخانہ نے گھڑی کا فرانزک این سی سی آئی اے کے بجائے لاہور فارنزک لیب سے کروانے کا مطالبہ کردیا۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ کئی روز سے میر رضا کی اسمارٹ واچ سابق سربراہ کمیٹی کے پاس تھی، جس کے باعث اُس میں ٹیمپرنگ کا امکان ہے، فرانزک لاہور سے کروایا جائے۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔




