فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران ٹرمپ یا امریکی نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا: دفترِ خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی---فائل فوٹو
  ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی—فائل فوٹو

  ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کا دورہ ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا۔

انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان 2027ء میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جبکہ پاکستان نے ایک سال کے لیے ایس سی او کی چیئرمین شپ بھی سنبھال لی ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیرِاعظم آئندہ بشکیک میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس میں شرکت کریں گے اور کانفرنس کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، وزیرِ اعظم کے دورۂ بشکیک کی حتمی تاریخوں اور پروگرام سے آئندہ دنوں میں آگاہ کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایس سی او سربراہی اجلاس کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے، جبکہ پاکستان کی چیئرمین شپ کا اہم سنگِ میل 2027ء میں اسلام آباد میں ایس سی او سربراہ اجلاس کا انعقاد ہو گا۔

طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا، جس کے دوران ایرانی حکام سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ترجمان نے واضح کیا کہ آرمی چیف کا دورۂ ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں تھا، جبکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے برادر ممالک سے مسلسل رابطوں میں ہے۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے اور تنازع کے پُرامن حل اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں خطے میں امن و استحکام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہیں، ایرانی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی صورتِحال پر اپنے ہم منصبوں سے رابطے جاری رکھے۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق اسحاق ڈار نے 14 اگست کو مصری وزیرِ خارجہ، 19 اگست کو اردن کے وزیرِ خارجہ، 20 اگست کو برازیل کے وزیرِ خارجہ اور 23 اگست کو ازبک وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے ترک وزیرِ خارجہ سے بھی 17، 19 اور 25 اگست کو متعدد مرتبہ رابطہ کیا، جبکہ کویتی وزیرِ خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، پاکستان کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت جاری رکھے گا۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق اسحاق ڈار اور ازبک وزیرِ خارجہ نے آئندہ ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن نے 19 سے 20 اگست تک پاکستان کا دورہ کیا، جو نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد کسی شامی وزیرِ خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نیپال میں حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے جانی نقصان اور انفرااسٹرکچر کی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے، صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے نیپال میں سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، پاکستانی قوم نیپال کے متاثرہ عوام کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

 طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے فروغ کا دفاعی فریم ورک ہے، مکہ دفاعی معاہدہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اجتماعی ذمے داریوں اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کے عزم کا اظہار کریں، معاہدے میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں شراکت داروں سے مشاورت کے بعد غور ہو گا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، ایران، شام اور دیگر ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے میں دلچسپی کی باضابطہ درخواست موصول ہونے پر غور ہو گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، افغانستان کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس کی سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، افغان عبوری حکومت دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمے داریاں پوری کرے، افغان سر زمین کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کے استعمال سے روکا جائے، افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی رابطے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں قابل تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات ہوں، پاکستان مؤثر سرحدی انتظام اور قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات چاہتا ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں عملی اور قابلِ تصدیق پیش رفت کو اہمیت دیتا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں