اسلام آباد کا پولی کلینک اسپتال بھی فائر سیفٹی سے محروم

اسلام آباد کے دوسرے بڑے اسپتال پولی کلینک میں بھی فائر سیفٹی میکینزم موجود نہیں، پولی کلینک اسپتال میں نہ اسموک ڈیٹکٹرز ہیں اور نہ ہی فائر سیفٹی آلات ہیں۔

دستاویز کے مطابق پولی کلینک اسپتال انتظامیہ نے فائر ڈپارٹمنٹ سے این او سی بھی نہیں لیا، سی ڈی اے نے اسپتال انتظامیہ کو فائر سیفٹی پروٹوکول کے لیے خط لکھا، جواب نہیں ملا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔

کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا، نرسری اسٹاف سے سوالات کیے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا، پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔

کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کروایا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4افسران نے تحریری بیانات جمع کروائے، کمیٹی 48 گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں