شرجیل میمن نے وزارت توانائی کو بیڈگورننس کی مثال قرار دیدیا

شرجیل میمن نے وزارت توانائی کو بیڈگورننس کی مثال قرار دیدیا

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزارت توانائی کو بیڈ گورننس کی مثال قرار دے دیا۔

سندھ اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شرجیل میمن نے کہا کہ صوبے بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سنگین مسئلہ ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی بدانتظامی کا خمیازہ عوام اور تاجر برداشت کر رہے ہیں، بیڈگورننس کی اگر کوئی مثال پاکستان میں ہے تو وزارت توانائی ہے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ مسئلہ بجلی تک محدود نہیں، گیس اور پانی کی صورت حال بھی یہی ہے، یہ بہتر مکینزم نہیں بنا رہے۔ تمام جماعتیں متفق ہوں تو کے الیکٹرک سمیت تمام اداروں کے سی ای اوز کو اسپیکر بلائیں۔

سینئر وزیر سندھ نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ کے الیکٹرک، حیسکو، سیپکو سب ناکام ہوچکے ہیں، یہ بہتر مکینزم نہیں بنا رہے اور پیسا کمائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں موجود نمائندے بھی اس پر آواز بلند کریں، مسئلہ بجلی تک محدود نہیں، گیس اور پانی کی صورتحال بھی یہی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ہم نے پارلیمانی کمیٹی بنائی مگر کام نہیں بنا، تمام جماعتیں متفق ہوں تو اسپیکر اپنے اختیارات استعمال کریں، کے الیکٹرک، حیسکو، سیپکو، سوئی سدرن کو بلائیں۔ وہ قانون کے مطابق نہیں چلتے تو آپ ان کےخلاف قانونی کارروائی کریں۔

اس پر اسپیکر نے کہا کہ 23 ستمبر کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ان سب اداروں کے سی ای اوز کو بلائیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
September 2026
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  

اپنا تبصرہ بھیجیں