سندھ ہائیکورٹ نے ایم نائن موٹروے سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

ایم نائن موٹروے کی زمین کی ملکیت اور ٹول ٹیکس کی وصولی کے تنازع پر سندھ ہائیکورٹ نے رائٹ آف وے اور زمین الاٹمنٹ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ 

کراچی میں ​عدالت عالیہ نے ایم نائن موٹروے سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں۔ ​سندھ ہائیکورٹ نے معاملہ حکومتِ سندھ کے مجاز حکام کو ارسال کر دیا۔ 

عدالت عالیہ نے این ایچ اے کو حکومتِ سندھ کو رسمی ریفرنس بھیجنے کی ہدایت کی اور ​مجاز اتھارٹی کو 45 دنوں کے اندر تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ 

عدالتی ​فیصلے تک ایم نائن موٹر وے سے متعلق عدالت کا موجودہ اسٹیٹس برقرار رہے گا۔ 

عدالت عالیہ نے کہا ​کورٹ میں تمام فریقین، این ایچ اے اور متاثرہ افراد کو موقف پیش کرنے کی اجازت ہے، ​مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق اور مکمل شفافیت سے جامع آرڈر جاری کرنے کی پابند ہوگی۔ 

این ایچ اے کے وکیل نے کہا کہ حکومت سندھ نے 2012 میں موٹروے کیلئے زمین کی لیز نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو دی، 2017 میں یہ لیز منسوخ کر دی گئی جو خلاف قانون ہے۔ 

جبکہ حکومت سندھ کے وکیل نے کہا کہ زمین ہمیشہ صوبے کی ملکیت ہوتی ہے، این ایچ اے رسائی کے نام پر زمینیں بیچ رہی ہے، اتھارٹی کو اراضی کی منتقلی منسوخ کی جا چکی ہے۔ 

حکومت سندھ کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ زمین کی قیمت ادا کیے بغیر اتھارٹی ٹول ٹیکس وصول نہیں کرسکتی۔ 

این ایچ اے کے وکیل نے کہا حکومت سندھ موٹروے کو اپنی تحویل میں لے کر ٹول ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں