اسلام آباد: حکومت، اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکووں کے ساتھ آغاز

حکومت، اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز گلے شکوں کے ساتھ ہوا، وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹوئٹ کا معاملہ اٹھا دیا، جبکہ حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر مقام نے کہا ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹوئٹ کردیا۔
حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے شکوہ کیا کہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
اپوزیشن نے حکومت کو جواب دیا کہ آپ وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹوئٹ کے بارے میں کیا کہیں گے، کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
حکومتی وفد نے اپوزیشن کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں، پیپلز پارٹی نے کہا کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں وقفہ ہوا ہے، جس کے بعد دونوں وفود کی الگ الگ مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی اور رانا ثناء اللّٰہ نے وزیر اعظم شہباز سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان بھی اپنی دیگر قیادت کو ٹیلی فون پر اعتماد میں لے رہے ہیں، حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے ہیں، حکومتی وفد میں محسن نقوی، امیر مقام ،طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ شامل ہیں، نوید قمر، شیری رحمان، اعجاز جاکھرانی بھی حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن ٹیم میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، حلیم عادل شامل ہیں۔




