گورنر راج کے باوجود خیبر پختونخوا میں سیاسی استحکام نہیں آیا: امیر حیدر ہوتی

امیر حیدر ہوتی - فوٹو: فائل
امیر حیدر ہوتی – فوٹو: فائل

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ گورنر راج کے باوجود خیبر پختونخوا میں سیاسی استحکام نہیں آیا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر سے پہلے اور بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال میں کافی تبدیلی آئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ڈیڈلاک کا خاتمہ سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ 

امیر حیدر خان ہوتی نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے پشاور کیوں نہیں آئے؟ پہلے پشاور آنے کی دعوت نہیں دی گئی یا وزیراعظم نے خود آنا مناسب نہیں سمجھا؟ 

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے وزیراعظم سے دہشت گردی اور دیگر مسائل پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے وزیراعظم کا پشاور آنا زیادہ مناسب ہوتا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ میرے پانچ سالہ دور کا دوبارہ احتساب کرنا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ گزشتہ 13 سال کے معاملات کا غیر جانبدارانہ احتساب ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج نافذ ہوچکا، اب خیبر پختونخوا کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ دہشت گردی خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وفاق اور صوبہ ایک پیج پر آگئے ہیں تو بنیادی مسائل بھی حل کیے جائیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں