کراچی میں انسدادِ پولیو مہم میں دوبارہ ڈرائیور، مالی وغیرہ یو سی ایم او مقرر

کراچی میں انسدادِ پولیو مہم میں دوبارہ ڈرائیور، مالی وغیرہ یو سی ایم او مقرر

کراچی میں انسدادِ پولیو مہم میں ایک بار پھر مالی، ڈرائیور، چوکیدار اور نائب قاصد سمیت غیر متعلقہ افراد کو یونین کونسل منیجمنٹ آفیسر  تعینات کردیا گیا ہے۔ ایک جانب کراچی کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس موجود ہے دوسری جانب گزشتہ ماہ کراچی کے ضلع شرقی سے پولیو کا کیس بھی رپورٹ ہوچکا ہے۔

پولیو وائرس بچوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے تو وہیں اس کے خاتمے کے لیے چلائی جانے والی مہم میں یونین کونسل کی سطح پر نگرانی کی اہم ذمہ داریاں مالی، ڈرائیور، نائب قاصد اور چوکیداروں کے سپرد کرنا محکمہ صحت اور پولیو حکام کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ 

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گزشتہ انسدادِ پولیو مہم میں بھی ضلع وسطی کے اندر مالی، ڈرائیور، چوکیدار اور نائب قاصد سمیت غیر متعلقہ ملازمین کو یو سی ایم او تعینات کیا گیا تھا، جس کی نشاندہی ’جنگ‘ نے کی تھی۔

تاہم اس سنگین معاملے پر نہ ضلعی صحت افسر کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے آئی اور نہ ہی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ نے اس کا نوٹس لیا، جس کے نتیجے میں ضلع وسطی میں نئی مہم میں بھی وہی صورتحال برقرار ہے اور دوبارہ انہی افراد کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر اضلاع میں بھی غیر متعلقہ افراد کی تعیناتی کی غیر مصدقہ اطلاعات ہے۔

واضح رہے کہ ’جنگ‘ نے اگست 2024ء میں انسدادِ پولیو مہمات میں ڈاکٹروں کے بجائے مالی، ڈرائیور، وارڈ سرونٹ، آیا اور دیگر غیر متعلقہ ملازمین کو یو سی ایم او لگانے کی نشاندہی کی تھی، جس پر اُس وقت کے ای او سی کوآرڈینیٹر ارشاد علی سوڈھر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ستمبر 2024ء میں باقاعدہ پالیسی جاری کی تھی جس میں نائب قاصد، کلرک، خانسامہ، ڈرائیور، چوکیدار، مالی، وارڈ سرونٹ اور دیگر غیر متعلقہ ملازمین کو یو سی ایم او تعینات کرنے سے روک دیا تھا، جبکہ ان عہدوں پر تعیناتی کے لیے تعلیم اور قابلیت کا معیار بھی مقرر کیا گیا تھا۔ 

تاہم تقریباً دو سال بعد اس پالیسی پر عملدرآمد کے بجائے اس کی خلاف ورزی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ پولیو مہم میں یو سی ایم او کی ذمہ داری انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، کیونکہ وہ یونین کونسل کی سطح پر پولیو ٹیموں کی نگرانی، مائیکرو پلان پر عملدرآمد، بچوں کی ویکسینیشن کی کوریج، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور مہم کی رپورٹنگ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

ایسے میں جب کراچی میں پولیو وائرس کی موجودگی برقرار ہو اور ضلع شرقی سے تازہ کیس بھی سامنے آچکا ہو تو مہم کی نگرانی کے لیے غیر متعلقہ ملازمین کی تعیناتی کو معمولی انتظامی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

اس سلسلے میں ڈی ایچ او سینٹرل ڈاکٹر عدنان خان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملازمین تعلیم یافتہ ہیں جو 2013 سے پولیو پروگرام میں کام کر رہے ہیں اور پولیو کو بہتر جانتے ہیں جبکہ اس ضمن میں ای او سی کوآرڈینیٹر شہر یار میمن کو بھی مطلع کردیا گیا تھا اس لئے ان سے کام لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

واضح رہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کروڑوں روپے کے وسائل، عملہ اور انتظامی مشینری استعمال ہونے کے باوجود وائرس کی موجودگی اور نئے کیسز سامنے آنا پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں مہم کے بنیادی انتظامی ڈھانچے میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں پر خاموشی اختیار کرنا مزید تشویش کا باعث ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes
November 2026
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  

اپنا تبصرہ بھیجیں