میر رضا کیس، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس رپورٹ پر سوالات اٹھادیے

میر رضا کیس، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس رپورٹ پر سوالات اٹھادیے

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا ہے کہ بہت کم ہوتا ہے کہ بلٹ انٹری کا زخم ایگزٹ سے بڑا ہو۔ ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ جو نتائج ڈاکٹر نے نکالے ہیں وہ تصویر سے میچ نہیں کرتے، میرے بھی یہی سوالات ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ تصاویر اور ڈاکٹر کی رپورٹ دیکھی ہے، وہ میچ نہیں کرتی۔ زیادہ تر کیسز میں بلٹ کی ایگزٹ سائز بڑی ہوتی ہے۔ نہ ہم نے اور نہ ہی کرائم سین یونٹ نے رضا علی کے ہاتھ سے گن پاوڈر چیک کیا۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جوابات دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کردیے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

پولیس سرجن نے کہا کہ کل پولیس ٹیم کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہوگی اور اس کیس پر مزید بات چیت ہوگی۔ رضا علی کے جسم کا اوپر والا حصہ زیادہ ڈی کمپوز دکھا رہا ہے جبکہ نچلا حصہ کم ڈی کمپوز ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کسی کی لاش آدھی جھاڑیوں میں اور آدھی باہر ہو تو باڈی کے ڈی کمپوزیشن میں فرق ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نے جو رپورٹ دی ہے میرا اس سے اختلاف ہے، نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔ جس بارے میں بتایا گیا کہ بلٹ کی انٹری سائز ہے کیا وہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی وجہ سے بڑا ہوگیا ہے؟

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ جس جگہ رضا کی لاش ملی ہے وہاں پر خون نہ ہونے کے برابر ملا ہے۔ ایسے کیسز میں جب خون نہیں ملتا ہے اور زمین جذب کرلیتی ہے تو اس جگہ پر کھدائی بھی کرتے ہیں، سائنسی طریقے موجود ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ زمین پر کتنا خون گرا اور جذب ہوگیا

ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ کچھ سیمپل لیے گئے اور شرٹ فارنزک کےلیے بھیجی گئی ہے، ڈی آئی جی کو شرٹ کے گن شاٹ ریزیڈیو کےلیے بھی درخواست کی ہے، پتا چل سکتا ہے کہ لاش پر نشانات تشدد کے ہیں یا لاش کے ڈی کمپوز ہونے کی وجہ سے ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں