میر رضا کیس: جسم کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کا انکشاف
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 25 سالہ میر رضا علی کے جسم کو تیزاب سے جلانے کی کوشش بھی کئی گئی تھی۔ فرانزک ذرائع کے مطابق میر رضا کی شرٹ پر تیزاب پایا گیا ہے۔
دوسری طرف سندھ حکومت نے میر رضا کیس کی تحقیقات ہائیکورٹ ججز سے کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ضیا لنجار نے کہا کہ آج میر رضا کیس سے متعلق وزیر اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ تھی، ہم نے فیصلہ کیا ہے ہم جوڈیشل کمیشن بنا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے ساتھ ہے، حکومت کا کام عوام کے ساتھ انصاف کرنا ہے، میر رضا کی فیملی کے دکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں۔
ضیا لنجار نے کہا کہ میں نے تحقیقاتی ٹیم بھی تبدیل کردی ہے، ڈی آئی جی عامر فاروقی ٹیم کے سربراہ ہیں، فیملی کو کہا ہے جو بھی پولیس افسر کہیں ان کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا، اب تک ایسا کچھ نہیں سامنے آیا کہ اس کے پیچھے ہائی پروفائل شخصیت ہو، جوڈیشل کمیشن بننا وقت کی ضرورت سمجھتا ہوں۔
اس سے قبل سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ میں سامنے آیا تھا کہ میر رضا علی کو گولی جسم کے پچھلے حصے سے لگی جو سینے کو چیرتی ہوئی سامنے سے باہر نکلی۔
رپورٹ کے مطابق جسم کے مختلف حصوں پر زخموں، نیل پڑنے، خون جمنے اور ہڈیوں کے فریکچر کے شواہد بھی ملے ہیں تاہم موت کی حتمی وجہ جاننے کے بارے میں رائے متعلقہ رپورٹس موصول ہونے تک محفوظ رکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ گولی عقب سے لگی ہے اس لیے خودکشی کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میر رضا کو قتل کیا گیا؟ قاتل کون ہے؟ اسے کیوں قتل کیا گیا؟ کیسے قتل کیا گیا؟ کب اور کہاں قتل کیا گیا؟
کیا پولیس ان سوالات کے جواب ڈھونڈ پائے گی یا نہیں بہت جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔




