سیاسی رہنماؤں میں مذاکرت ہوتے رہتے ہیں، محمود اچکزئی
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی آپس میں ملاقاتیں اور مذاکرت ہوتے رہتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے، ہرقیدی کو اس کا جائز اور قانونی حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سنگین سے سنگین مجرم بھی ہو تب بھی اس کا حق ہے کہ اس کا علاج کیا جائے، بچوں اور وکیل سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی آپس میں ملاقاتیں اور مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، پاکستان کے مسائل پر بات کرنے کے لیے ایک سے 2 دن مختص کیے جائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ روزانہ کم سے کم 50 سے 60 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر صبغت اللّٰہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے 14 اگست کو چوکی پر حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے، ہم اپنے بچوں کو بندوق نہیں تھمانا چاہتے، تعلیم دینا چاہتے ہیں۔
صبغت اللّٰہ نے کہا کہ ہماری زمینیں بنجر ہورہی ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے، دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، ان ہی کی وجہ سے سیاحت کو نقصان ہو رہا ہے۔




