میر رضا قتل، تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم، جسٹس عمر سیال سربراہ نامزد

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا جس میں سندھ ہائی کورٹ کے جج کو نامزد کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس عمر سیال کو جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

سندھ حکومت کی درخواست پر میر رضا علی قتل کیس کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے، کیس کی تحقیقات سندھ ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے تحت ہوں گی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے حکومتِ سندھ کی درخواست پر جسٹس عمر سیال کو نامزد کیا ہے، میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آ گیا ہے۔

میر رضا علی قتل کیس میں عدالتی کمیشن تحقیقات کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گا، جوڈیشل کمیشن تحقیقات کی شفافیت اور حقائق کا بھی تعین کرے گا۔

میر رضا علی قتل کیس میں خاندان کے تحفظات کے بعد جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے میر رضا علی کی گولی لگی لاش ملی تھی جس کے بعد اس قتل کیس کی تحقیقات پہلے پولیس ٹیم کے ذریعے جاری تھیں۔

بعد ازاں سندھ حکومت نے میر رضا علی قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن طلب کیا تھا۔

میر رضا کے اہلِخانہ کی درخواست پر سماعت

میر رضا کے اہلِخانہ کی جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست کی جسٹس عدنان الکریم میمن نے چیمبر میں سماعت کی۔

عدالت نے فریقین کو 31 اگست کے لیے نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے، درخواست میں سندھ حکومت کے مختلف اداروں سمیت 19 افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔

میر رضا کے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سمیعہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے جبکہ کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پولیس کی تحقیقات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں، میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ حکومت جوڈیشل کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔

وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیس پر منفی طور پر اثر انداز ہو گی، جوڈیشل کمیشن کی انکوائری عدالت میں بطورچالان پیش نہیں کی جا سکتی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں