میر رضا کیس: حکومت اہلخانہ سے اعتماد کا مطالبہ کرنے سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز شیئر کرے، جبرن ناصر

مقتول نوجوان میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ والدین حکومت پر اعتماد کریں۔ حکومت کم سے کم جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز اور نوٹیفکیشن تو شیئر کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میر رضا کیس پر لائیو پریس کانفرنس کرتے ہوئے خصوصی طور پر کرائم رپورٹرز کو مدعو کیا اور اہلخانہ سے حکومت پر اعتماد کرنے کی اپیل کی۔
جبران ناصر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ حکومت اہلخانہ سے اعتماد کا مطالبہ کرنے سے پہلے عدالتی کمیشن کا نوٹیفکیشن اور اس کے ٹی او آرز عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھ دیتی؟
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ گزشتہ 24 گھنٹوں سے کمیشن کے نوٹیفکیشن اور ٹی او آرز جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تحقیقات کے دائرہ کار اور کمیشن کے اختیارات واضح ہونا شفاف تحقیقات کے لیے ضروری ہے۔
خیال رہے کہ میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا جس میں سندھ ہائی کورٹ کے جج کو نامزد کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس عمر سیال کو جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
سندھ حکومت کی درخواست پر میر رضا علی قتل کیس کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے، کیس کی تحقیقات سندھ ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے تحت ہوں گی۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے حکومتِ سندھ کی درخواست پر جسٹس عمر سیال کو نامزد کیا ہے، میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آ گیا ہے۔
میر رضا علی قتل کیس میں عدالتی کمیشن تحقیقات کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گا، جوڈیشل کمیشن تحقیقات کی شفافیت اور حقائق کا بھی تعین کرے گا۔
میر رضا علی قتل کیس میں خاندان کے تحفظات کے بعد جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ کیا گیا۔




