علی ظفر کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ

سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ آج بانئ پی ٹی آئی کی بات نہیں کر رہا، اصل سوال آئین کا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں علی ظفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے انکار نہیں کر سکتی، ہم نے حلف لیا ہے کہ آئین کی پاسداری کرنی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین کہتا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنا ہے، اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کریں گے تو توہینِ عدالت کی سزا ہو سکتی ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ بانئ پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لے جایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت بھی کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بانئ پی ٹی آئی کو شفا اسپتال نہیں لے جایا گیا اور میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا، سیکیورٹی ایشو ایک بہانہ ہے، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
علی ظفر کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ کے آرڈر کو خود تبدیل کر دیا، بانئ پی ٹی آئی سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن کسی کی صحت سے نہیں کھیلنا چاہیے اور بانئ پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو عدالت کا فیصلہ غلط لگتا ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتی ہے، لیکن حکومت خود عدالت کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر اصول یہ مان لیا جائے کہ جو فیصلہ پسند نہ آئے اس پر عمل نہیں کریں گے تو پھر کوئی نظام نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں عدالت کی بالادستی سے متعلق قرارداد پیش کرنا چاہتے تھے، تاہم حکومت نے قرارداد پر دستخط نہیں کیے، قرارداد میں کہا گیا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔
علی ظفر نے سوال کیا کہ حکومت آئین کے تابع ہے یا آئین حکومت کے تابع ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتی ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔




