وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا اپنے استعفے کے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنے استعفے کے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
جیو نیوز کے پروگرام “کیپٹل ٹاک” میں میزبان حامد میر نے جب مصطفیٰ کمال سے پوچھا کہ کیا آپ نے کل وزیراعظم کو اپنے ہاتھ سے لکھا استعفیٰ بھجوایا جسے وزیراعظم نے قبول نہیں کیا؟
جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب آپ کو معلوم ہے تو آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میزبان حامد میر نے کہا یعنی وزیراعظم سے پوچھنا چاہیے تو مصطفیٰ کمال نے کہا جہاں سے آپ کو معلوم ہوا ہے وہیں سے پوچھ لیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کاش میں حقائق بتا سکتا کہ مستعفیٰ ہونے والے معاملے میں کیا کیا اور کیا نہیں کیا، پیپلز پارٹی کا پورا ایجنڈا ہے اس کو انتظامی یونٹس والی بات بڑی زور سے لگی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر میں مستعفی ہو کر کراچی چلا گیا تو ان کی زندگی اور خراب ہو گی، میں خود چاہتا ہوں کہ میری جان چھوڑیں اور مجھے واپس بھیجیں، دو دن کراچی جاتا ہوں اور پیپلز پارٹی کی بری حکمرانی کی بات ہوتی ہے، اگر سات دن کراچی بیٹھوں گا تو مجھے خود ہی لے کر آئیں گے کہ اس کو واپس بھیجو کراچی سے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مستعفی ہونے کے معاملے میں کیا کیا یہ سب کو چند دنوں میں پتا چل جائے گا، گل پلازہ میں 72 لوگ جان سے گئے کیا وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے استعفیٰ دیا؟
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز واقعہ پر وزیراعظم نے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اس کے علاوہ کوئی اور کمیٹی نہیں ہے، کمیٹی کے ٹی او آر واضح ہیں کل شام تک اپنی رپورٹ دے دے گی، کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔




