جو نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان انتظامی یونٹس کی تحریک کا ہراول دستہ ہے، جو نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے۔
اورنگی ٹاؤن میں جلسے سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئین میں 27 ترامیم ہوچکی ہیں۔ اس کا مطلب آئین میں سب کچھ ٹھیک نہیں، انتظامی یونٹس بنانے کے لیے آئین میں ترمیم ممکن ہے، ایم کیو ایم آئین کی بات کرتی ہے کوئی کارکنان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2008 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ تھی۔ 2023 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم کردی گئی، ایک کروڑ 60 لاکھ سے کم کرکے آبادی ایک کروڑ 30 لاکھ کردی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے سرکاری اسکولوں کا نظام تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے کراچی کی آبادی 30 لاکھ کم دکھائی، وفاق سے اپیل کے بعد دوبارہ مردم شماری میں آبادی 2 کروڑ سے زیادہ نکلی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پورے ملک میں کوٹہ سسٹم نہیں صرف سندھ میں ہے، پیپلز پارٹی صوبے کے عوام کو صحیح سے گننے کیلئے تیار نہیں، آصف زرداری کہہ چکے کراچی 3 کروڑ آبادی کا شہر ہے، حیدرآباد کی مردم شماری بھی غلط کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ 7 سال میں بھی نہیں بن سکا۔ آرٹیکل 140اے کے تحت اختیارات نچلی سطح تک پہنچائیں، پیپلز پارٹی نے اختیارات کی نچلی سطح تک متقلی کی مخالفت کی، ن لیگ بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دینے کیلئے تیار تھی لیکن پیپلز پارٹی نے رکاوٹ ڈالی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 8884 ارب روپے 4 وزرائے اعلیٰ کو دیے گئے۔ 2263 ارب وزیر اعلیٰ سندھ کو دیے گئے۔
اس دوران رہنما ایم کیو ایم انیس قائم خانی نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ ملیر ڈسٹرکٹ بنا رہے تھے تو کہا تھا کہ کراچی کو تقسیم نہ کریں۔ ملیر ضلع بنا کر کراچی کو تقسیم کیا گیا، سندھ ہماری دھرتی ہے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، ملک میں 32 انتظامی یونٹس بنانا ہوں گے اسی میں بقا ہے۔




