پی پی 22 ہزار ارب کا 10 فیصد بھی کراچی میں لگادیتی تو یہ دنیا کے بہترین شہروں میں ہوتا: مصطفیٰ کمال

پی پی 22 ہزار ارب کا 10 فیصد بھی کراچی میں لگادیتی تو یہ دنیا کے بہترین شہروں میں ہوتا: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے 22 ہزار ارب کا 10 فیصد بھی کراچی میں لگادیا ہوتا یہ دنیا کے بہترین شہروں میں شامل ہوتا۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبے بنانا غیرآئینی ہوتا تو شہید ذوالفقار علی بھٹو آئین کی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ آئین بننے کے بعد سے اگر 27 ترامیم کی جاچکی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آئین میں کچھ سقم تھے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بہت سارے کام آئین کی کتاب کے مطابق نہیں ہو پا رہے ہوں گے، اسی لیے ترامیم کر کے وہ سقم دور کیے گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا۔

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ 18 سال سے پیپلز پارٹی حکومت میں ہے۔ 22 ہزار ارب روپے لے چکی ہے، اگر ان 22 ہزار ارب کا 10 فیصد بھی لگا دیتے تو کراچی دنیا کے بہترین شہروں میں شامل ہوتا۔

پمز واقعے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز واقعے میں شہید 14 بچوں کا دکھ ہمیشہ رہے گا۔ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام پر کام شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت ان کے لیے اہم نہیں، انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تھا، پمز واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، کچھ چیزوں کی فارنزک کروانی باقی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 8 لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ 2 نرسز اور سیکیورٹی گارڈز کو بھی ڈیوٹی سے ہٹایا گیا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں