میرے پاس انتظامی یونٹس سے متعلق ابھی کوئی انفارمیشن نہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میرے پاس انتظامی یونٹس سے متعلق ابھی کوئی انفارمیشن نہیں، یہ اچھی بات ہے اسلام آباد میں ایک آزاد ادارہ قائم کیا جائے جسے آپ اسمبلی بھی کہہ سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس کو صوبائی حکومت یا پھر کیپٹل کی حکومت بھی کہہ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ چیز دنیا کے بہت سے دارالحکومتوں میں موجود ہے، بھارت میں دلی کی ایک الگ حکومت ہے۔ اس میں کوئی ہچکچاہٹ والی بات نہیں ہے، افغانستان میں چند صوبے ہوتے تھے، اب انہوں نے 34-35 صوبے بنالیے۔ اشرف غنی نے مجھ سے ملاقات میں کہا تھا کہ عوامی خدمت میں بہتری ہوئی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا پیپلز پارٹی سے متعلق میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرسکتا، یہ ایک نیشنل ایشو ہے، اس میں کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے، یہ فیصلہ وفاق سمیت صوبوں کو مضبوط بنائے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ صوبے کا لفظ لوگوں کو شاید کنفیوز کرتا ہے، انتظامی یونٹ لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہوگا، بحیثیت جماعت اس پر کوئی بات ہوئی ہو تو اس کا مجھے علم نہیں۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس سے متلعق کوئی میٹنگ کی ہو تو اس کا مجھے علم نہیں، عوام کو ایسا ڈیلیوری سسٹم دینا چاہیے جس سے انہیں سب سے نچلے لیول کی سروسز میسر ہوں۔




