بوگس رجسٹری کیس میں درخواست ضمانت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تفتیشی افسر پر برہم
بوگس رجسٹری کرنے کے مقدمے میں رجسٹری محرر کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے تفتیشی افسر کی جانب سے غلط بیانی پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ ڈی جی اینٹی کرپشن کو طلب کرلیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ملزم تاج دین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، اس دوران انہوں نے اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر کی جانب سے غلط بیانی پر برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کو کل عدالت طلب کر لیا جبکہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد کو بھی طلب کرلیا گیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے غلط رپورٹ کیوں دی، کیا یہ زیادہ ہوشیار ہیں؟ سسٹم سے آگے ہو کر عدالت کو دھوکا دے رہے ہیں۔ یہ سب مل کر کام کرتے ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ حصہ ملتا رہے تو چپ رہتے ہیں، جب نہ ملے تو مقدمہ درج کروا دیا۔ کیا اینٹی کرپشن میں مقدمہ کے اندراج کے بعد انکوائری ہوتی ہے؟ انکوائری اور تفتیش میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر غلط بیانی کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر جھوٹی بوگس رجسٹریاں تیار کرنے کا الزام ہے۔




